المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الحب والإخاء باب: محبت اور بھائی چارے کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَعُمُدًا مِنْ يَاقُوتٍ ، عَلَيْهَا غُرَفٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ ، لَهَا أَبْوَابٌ مَفْتُوحَةٌ ، تُضِيءُ كَمَا يُضِيءُ الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ يَسْكُنُهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُتَحَابُّونَ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالْمُتَجَالِسُونَ فِي اللهِ تَعَالَى ، وَالْمُتَآلِفُونَ فِي اللهِ جَلَّ جَلَالُهُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ جنت میں یاقوت کے ایسے بلند و بالا ستون ہیں جن پر زبرجد کے بنے ہوئے بالا خانے ہیں، ان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور وہ اس طرح چمکتے ہیں جیسے کوئی روشن اور درخشندہ ستارہ چمکتا ہے۔“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان میں کون لوگ سکونت پذیر ہوں گے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان میں وہ لوگ رہیں گے جو اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے کی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور جو اللہ جل جلالہ کی خوشنودی کے لیے باہم الفت و یگانگت رکھتے ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں حماد بن ابی حمید نامی راوی ضعیف ہے، تاہم دیگر احادیث سے اس کے مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ (مسند عبد بن حمید: 1421)۔