المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إكرام الجار باب: پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کی عزت و توقیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى أَبُو أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَرَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا وَاضِعٌ خَدَّهُ عَلَى خَدِّ رَجُلٍ ، فَذَهَبَ ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَادَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَدْتُ لَهُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ بْنَ مَسْلَمَةَ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ ؟ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ بِهَذَا الرَّجُلِ شَيْئًا ، مَا فَعَلْتَهُ بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ عَلَيْكَ حَدِيثَكَ ، فَمَنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جِبْرِيلُ ، أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَدْنَا عَلَيْكَ ، قَالَ : وَمَا قَالَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يَزَلْ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى كُنْتُ أَنْتَظِرُ أَنَّهُ يَأْمُرُنِي أَنْ يُوَرِّثَهُ .سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میرا گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کوہِ صفا پر تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ نے اپنا رخسارِ انور ایک شخص کے رخسار سے لگایا ہوا ہے، پھر وہ شخص رخصت ہو گیا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے آواز دی، پس میں آپ ﷺ کی جانب متوجہ ہو کر حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے محمد بن مسلمہ! تمہیں سلام کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس شخص کے ساتھ ایک ایسا برتاؤ کرتے ہوئے دیکھا جو آپ نے لوگوں میں سے کبھی کسی کے ساتھ نہیں فرمایا تھا، اس لیے میں نے یہ بات ناپسند کی کہ آپ کی گفتگو میں مخل ہو کر اسے منقطع کر دوں، پس اے اللہ کے رسول! وہ کون صاحب تھے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے، اور یاد رکھو! اگر تم سلام کرتے تو ہم تمہیں اس کا جواب ضرور دیتے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! انہوں نے آپ سے کیا ارشاد فرمایا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مجھے پڑوسی کے حقوق کے متعلق مسلسل اس قدر تاکید و وصیت کرتے رہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید وہ عنقریب مجھے اسے (مالِ وراثت میں) وارث قرار دینے کا حکم فرما دیں گے۔“
تخریج: اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد صحیحین میں موجود ہیں۔