المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إكرام الجار باب: پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کی عزت و توقیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2744
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مَعْمَرٍ أَبُو الْفَضْلِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ ، عَنْ بَهْزٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ ، فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقْرَبِهِمَا .ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ القشیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے دو پڑوسی ہیں، تو میں (ہدیہ و تحفہ پیش کرتے وقت) ان دونوں میں سے کسے ترجیح دوں؟“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو (اپنے گھر کے دروازے کے لحاظ سے) تمھارے سب سے زیادہ قریب ہو۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی مسعدہ بن یسع ضعیف ہے۔