المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إكرام الجار باب: پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کی عزت و توقیر کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ فُلَانًا جَارِي يُؤْذِينِي ، فَقَالَ : كُفَّ أَذَاكَ عَنْهُ وَاصْبِرْ عَلَى أَذَاهُ ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا ، حَتَّى جَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانًا جَارِي الَّذِي كَانَ يُؤْذِينِي قَدْ مَاتَ ، قَالَ : فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَفَى بِالدَّهْرِ وَاعِظًا ، وَكَفَى بِالْمَوْتِ مُفَرِّقًا .سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: ”اے اللہ کے رسول! میرا فلاں پڑوسی مجھے بہت ستاتا ہے“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی جانب سے اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ اور اس کی طرف سے پہنچنے والی اذیت پر صبر سے کام لو“۔ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ وہ شخص دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرا وہ پڑوسی جو مجھے ستاتا تھا، وہ اب وفات پا چکا ہے“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كَفَى بِالدَّهْرِ وَاعِظًا، وَكَفَى بِالْمَوْتِ مُفَرِّقًا» ”نصیحت حاصل کرنے کے لیے زمانہ کافی ہے اور جدائی ڈالنے کے لیے موت کافی ہے“۔
یہ روایت مسند الحارث (بغية الباحث) میں موجود ہے، اس کی سند میں ابن لہیعہ راوی کے حافظہ کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے، تاہم موت کو بہترین واعظ قرار دینا دیگر صحیح احادیث اور آثار سے ثابت ہے۔