المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إكرام الجار باب: پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کی عزت و توقیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2740
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بِالْجَارِ ، حَتَّى حَسِبْنَا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو پڑوسی کے حقوق سے متعلق ایسی مسلسل تاکید اور وصیت فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا، یا ہم نے یہ محسوس کیا کہ شاید آپ ﷺ عنقریب اسے (پڑوسی کو) وراثت میں باقاعدہ وارث و حصہ دار بنا دیں گے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس مفہوم کی صحیح روایات کتبِ ستہ میں بھی موجود ہیں۔