❮
❯
حدیث نمبر: 2741
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَعْلَى - هُوَ ابْنُ عُبَيْدٍ - ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ - هُوَ ابْنُ مُبَشِّرٍ - ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْعَوَالِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُصَلِّيَانِ حَيْثُ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ مَعَكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقَدْ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا كَثِيرًا ، هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے بالائی علاقے (عوالی) سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، اس وقت رسول اللہ ﷺ اور حضرت جبریل علیہ السلام اس جگہ نماز ادا فرما رہے تھے جہاں جنازوں کی نماز پڑھی جاتی ہے، پھر جب آپ ﷺ (نماز سے) فارغ ہوئے تو اس شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ کون صاحب تھے جنہیں میں نے آپ کے ہمراہ دیکھا ہے؟“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا واقعی تم نے انہیں دیکھا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں!“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً تم نے بہت بڑی خیر و فضیلت کا مشاہدہ کیا ہے، یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ مجھے پڑوسی (کے حقوق و حسنِ سلوک) کے بارے میں مسلسل اس قدر وصیت و تاکید کرتے رہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید وہ اسے (مالِ وراثت میں) وارث قرار دے دیں گے۔“
[إسناده حسن، أخرجه أحمد في مسنده: 14751، وأبو يعلى: 1819، والبزار: 3125].

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2741
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1129»