المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ الفحش باب: فحش گوئی اور بے حیائی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2719
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ ، حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : نَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَآذَتْنَا الْبَرَاغِيثُ ، فَسَبَبْنَاهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوهَا ، فَنِعْمَتِ الدَّابَّةُ ، فَإِنَّهَا أَيْقَظَتْكُمْ لِذِكْرِ اللهِ تَعَالَى " .
لَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ آدَمُ .ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مقام پر ٹھہرے تو وہاں ہمیں پسوؤں نے بہت زیادہ تکلیف دی جس پر ہم نے انہیں برا بھلا کہنا شروع کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں گالیاں نہ دو، کیونکہ یہ کتنا ہی اچھا جاندار ہے کہ اس نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے بیدار کر دیا۔“
یہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے، اور اسے نقل کرنے میں آدم نامی راوی منفرد ہیں۔