المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ الفحش باب: فحش گوئی اور بے حیائی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2718
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو يَاسِرٍ الْمُسْتَمْلِي ، حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَدَغَتْ رَجُلًا بُرْغُوثٌ ، فَلَعَنَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْعَنْهَا ، فَإِنَّهَا نَبَّهَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لِلصَّلَاةِ " .
2718 \ 2 - وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذُكِرَتِ الْبَرَاغِيثُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا تُوقِظُ لِلصَّلَاةِ " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص کو پسو نے کاٹ لیا تو اس نے اس پر لعنت کی، جس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اس پر لعنت نہ کرو، کیونکہ اس نے اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی کو نماز کے لیے بیدار کیا تھا۔“
امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں پسوؤں کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک یہ نماز کے لیے بیدار کرنے کا باعث بنتے ہیں۔“