المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 271
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يُدْعَى يَعْلَى قَالَ : أَخْبَرَنِي طَلْقٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ وَمَا فَاتَهُ مِنْ وَقْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ " .ترجمہ
سیدنا طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک کوئی شخص نماز تو ادا کر لیتا ہے، لیکن اس کے وقت میں سے جو (فضیلت والا حصہ) اس سے چھوٹ گیا، وہ اس کے لیے اس کے اہل و عیال اور مال و دولت سے بھی زیادہ بہتر اور قیمتی تھا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس میں نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ مومن اس عظیم اجر سے محروم نہ رہے جو دنیاوی جاہ و حشم اور مال و متاع سے کہیں بڑھ کر ہے۔