المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 270
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ وَمَا فَاتَهُ مِنْ وَقْتِهَا أَشَدُّ عَلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص (تاخیر کے ساتھ) نماز تو ادا کر لیتا ہے، مگر اس کے (افضل) وقت میں سے جو حصہ اس سے فوت ہو جاتا ہے، وہ اس کے لیے اپنے اہل و عیال اور مال و متاع (کے نقصان) سے بھی کہیں زیادہ گراں اور تکلیف دہ ہے“۔
اس روایت کی سند میں یعقوب بن ولید المدنی نامی راوی کذاب اور متروک ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سخت ضعیف یا موضوع کے درجے میں ہے۔