المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، [ قَالَ ] : قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتَاهُ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَهُ تَعَالَى : الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ أَيُّنَا لَا يَسْهُو ؟ [أَيُّنَا] لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : لَيْسَ ذَلِكَ ، إِنَّمَا هُوَ إِضَاعَةُ الْوَقْتِ ؛ يَلْهُو حَتَّى يَضِيعَ الْوَقْتُ .
272 \ 2 - حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبِي فَقُلْتُ : يَا أَبَهْ ، الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ ، أَسَهْوُ أَحَدِنَا فِي صَلَاتِهِ حَدِيثُ نَفْسِهِ ؟ قَالَ سَعْدٌ : أَوَلَيْسَ كُلُّنَا نَفْعَلُ ذَلِكَ ؟ وَلَكِنَّ السَّاهِيَ فَذَكَرَهُ .سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عرض کیا: ”اے ابا جان! اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ [سورة الماعون: 5] کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ ہم میں سے کون ایسا ہے جسے (نماز میں) سہو نہ ہوتا ہو؟ یا کون ہے جس کے دل میں (نماز کے دوران) خیالات نہ آتے ہوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس سے مراد یہ (عام بشری بھول چوک) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد نماز کے اوقات کو برباد کرنا ہے؛ یعنی انسان کھیل کود اور لہو و لعب میں اس قدر مگن ہو جائے کہ نماز کا وقت ہی ضائع کر دے۔“
دوسری سند کے مطابق مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا: ”اے ابا جان! ﴿الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ [سورة الماعون: 5] میں کیا ہم میں سے کسی کا نماز کے دوران بھول جانا یا دل میں وسوسوں کا پیدا ہونا مراد ہے؟“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا ہم سب کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا؟ (یقیناً ایسا ہوتا ہے)، لیکن (آیت میں مذکور) غافل وہ ہے (جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دے)“، پھر انہوں نے وہی پہلی بات دہرائی۔