المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ تَقْبِيلِ اليد باب: ہاتھ کو بوسہ دینے (یعنی دست بوسی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2706
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ : قَالَ : قَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ : " يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَلْ مسِست رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَنَاوِلْنِيهَا ، فَأَعْطَاهُ يَدَهُ فَقَبَّلَهَا " .
وَقَالَ سُفْيَانُ : حَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ جُدْعَانَ يَقُولُ : سَمِعْتُ ثَابِتًا يَقُولُ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَهُ .ترجمہ
ثابت بن اسلم بنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ”اے ابو حمزہ! کیا آپ نے اپنے ہاتھ سے اللہ کے رسول ﷺ (کے جسمِ اطہر) کو مس کیا ہے؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ ثابت رحمہ اللہ نے (شوقِ زیارت و محبت میں) عرض کیا: ”تو پھر اپنا وہ ہاتھ مجھے تھمائیے،“ پس سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا اور ثابت رحمہ اللہ نے اسے چوم لیا۔
امام سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرا گمان ہے کہ ابن جدعان نے یہ کہا کہ میں نے ثابت کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔