المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الالتزام والمعانقة والمصافحة باب: ایک دوسرے کو سینے سے لگانے، معانقہ کرنے اور مصافحہ کرنے سے متعلق باب۔
حَدَّثَنَا شَبَّابٌ هُوَ خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدَيْنِ مُتَحَابَّيْنِ فِي اللهِ تَعَالَى يَسْتَقْبِلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَيُصَافِحُهُ ، وَيُصَلِّيَانِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَغْفِرَ ذُنُوبًا لَهُمَا ، مَا تَقَدَّمَ مِنْهَا وَمَا تَأَخَّرَ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے جب بھی دو بندے آپس میں ملتے ہیں، پھر ان میں سے ایک اپنے ساتھی کا استقبال کرتا اور اس سے مصافحہ کرتا ہے، نیز وہ دونوں نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، تو وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے یہاں تک کہ ان کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (2951) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی 'درست بن حمزہ' کی وجہ سے بعض محدثین نے اس کی سند پر کلام کیا ہے اور علامہ البانی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔