المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ السلام باب: سلام کے احکام کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ الْمِنْقَرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ أَوَّلُ مَا أَوْصَانِي بِهِ ، أَنْ قَالَ : " يَا بُنَيَّ ، اكْتُمْ سِرِّي تَكُنْ مُؤْمِنًا " ، فَكَانَتْ أُمِّي وَأَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلْنَنِي عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا أُخْبِرُهُمْ بِهِ ، وَلَا أُخْبِرُ بِسِرِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا أَبَدًا ، " يَا بُنَيَّ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ ، فَلَا تَقَعَنَّ عَيْنُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا سَلَّمْتَ عَلَيْهِ ، فَإِنَّكَ تَرْجِعُ مَغْفُورًا لَكَ ، وَيَا بُنَيَّ ، إِذَا دَخَلْتَ مَنْزِلَكَ ، فَسَلِّمْ عَلَى نَفْسِكَ ، وَعَلَى أَهْلِكَ ، وَيَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِيَ ، وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ ، فَإِنَّهُ أَهْوَنُ عَلَيْكَ فِي الْحِسَابِ ، وَيَا بُنَيَّ ، إِنِ اتَّبَعْتَ وَصِيَّتِي ، فَلَا يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ " .
2700 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ بِهِ .
وَأَخْرَجَ التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَذَكَرَ أَنَّ عَبَّادً الْمِنْقَرِيَّ رَوَاهُ مُطَوَّلًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعِيدًا .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا، اور یہ سب سے پہلی وصیت تھی جو آپ ﷺ نے مجھے فرمائی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! میرے راز کو پوشیدہ رکھنا، تم کامل مومن بن جاؤ گے۔“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ) چنانچہ میری والدہ اور رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے کسی راز کے متعلق پوچھتی تھیں تو میں انہیں بھی نہیں بتاتا تھا اور میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی راز کبھی بھی کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! جب تم اپنے گھر سے نکلو تو اہل قبلہ میں سے جس کسی پر بھی تمہاری نظر پڑے اسے سلام کیا کرو، کیونکہ اس طرح تم (گھر) اس حال میں واپس لوٹو گے کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہو گی۔ اے میرے پیارے بیٹے! جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کیا کرو۔ اے میرے پیارے بیٹے! اگر تم سے ہو سکے کہ تم صبح اور شام اس طرح گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے کوئی کینہ یا کھوٹ نہ ہو، تو ایسا ہی کرو کیونکہ یہ تم پر (قیامت کے دن) حساب و کتاب کو آسان کر دے گا۔ اے میرے پیارے بیٹے! اگر تم نے میری اس وصیت کی پیروی کی، تو پھر تمہیں موت سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہو گی۔“
امام ابو یعلیٰ اور امام احمد بن منیع نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، نیز امام ترمذی نے اس حدیث کا کچھ حصہ عبداللہ بن انس کے واسطے سے علی بن زید سے روایت کیا ہے اور ذکر کیا کہ عباد المنقری نے اسے علی بن زید کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مفصل روایت کیا ہے، مگر اس میں سعید بن مسیب کا ذکر نہیں کیا ہے۔