المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ السلام باب: سلام کے احکام کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذاتِ باری تعالیٰ کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! تم اس وقت تک کامل ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے (خالص اللہ کی رضا کے لیے) الفت و محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں کہ جب تم اسے اختیار کرو گے تو آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ (وہ عمل یہ ہے کہ) «أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ» ”اپنے مابین سلام کو خوب عام کرو اور اسے رواج دو۔““
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور علامہ بوسری نے 'اتحاف الخيرة المهرة' میں اسے نقل کیا ہے، نیز اس کا شاہد صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔