المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ السلام باب: سلام کے احکام کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ قَنَانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .
2698 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ قَنَانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّهْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ بِهِ .
وَزَادَ : " وَالْأَشْرَةُ أَشَرٌ " .
2698 \ 3 - وَقَالَ إِسْحَاقُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا قَنَانٌ بِهِ ، وَزَادَ : " يَعْنِي كَثْرَةَ الْعَنَتِ " .
2698 \ 4 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : وَحَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا قَنَانٌ .
2698 \ 5 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، بِهِ .سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم آپس میں سلام کو کثرت سے رواج دو اور اسے ایک دوسرے کے درمیان عام کرو۔“
امام ابوبکر کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ «وَالْأَشْرَةُ أَشَرٌ» ”اور حد سے بڑھ کر اترانا یا فخر و غرور کرنا سراسر برائی ہے“، جبکہ امام اسحاق اور احمد بن منیع کی روایت میں اس کے مفہوم کی وضاحت ان الفاظ میں مروی ہے: «يَعْنِي كَثْرَةَ الْعَنَتِ» ”یعنی اس سے مراد بہت زیادہ مشقت، تنگی اور گناہ میں پڑنا ہے“۔ اس حدیث کو امام مسدد، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن راہویہ، احمد بن منیع اور ابویعلیٰ موصلی نے اپنی اپنی اسانید کے ساتھ قنان بن عبد اللہ النہمی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔