❮
❯
حدیث نمبر: 2688
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ حَجَرٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا إِلَى أَهْلِي ، فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ ، فَأَعْجَبَنِي لَعِبُهُمْ ، فَقُمْتُ عَلَى الْغِلْمَانِ ، فَانْتَهَى إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَقَامَ عَلَيْهِمْ ، وَسَلَّمَ عَلَى الْغِلْمَانِ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي بَعْدَ الْوَقْتِ الَّذِي كُنْتُ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِيهِ ، فَقَالَتْ أُمِّي : مَا حَبَسَكَ الْيَوْمَ يَا بُنَيَّ ؟ قُلْتُ : أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، قَالَتْ : أَيُّ حَاجَةٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا أُمَّهْ ، إِنَّهَا سِرٌّ .
قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، فَاحْفَظْ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ " ، قَالَ ثَابِتٌ : فَقُلْتُ لِأَنَسٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَتَحْفَظُ تِلْكَ الْحَاجَةَ الْيَوْمَ ، أَوْ تَذْكُرُهَا ؟ قَالَ : " إِنِّي لَهَا حَافِظٌ ، وَلَوْ حَدَّثْتُ بِهَا أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَهَا يَا ثَابِتُ " .
2688 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : ذَهَبْتُ مَعَ ثَابِتٍ إِلَى أَنَسٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ : " عِنْدِي سِرٌّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْ أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَأَخْبَرْتُكَ " .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نبی کریم ﷺ کے پاس سے اپنے اہل و عیال کی طرف جانے کے لیے نکلا، تو میرا گزر چند لڑکوں کے پاس سے ہوا جو کھیل رہے تھے، مجھے ان کا کھیل پسند آیا تو میں ان بچوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ میرے پاس پہنچ گئے اور ان کے پاس رک کر ان بچوں کو سلام کیا، پھر آپ ﷺ نے مجھے اپنی کسی ضرورت و کام کے لیے بھیج دیا۔ چنانچہ میں اپنی والدہ کے پاس اس وقت کے بعد پہنچا جس میں عموماً واپس آ جایا کرتا تھا، تو میری والدہ نے دریافت کیا: اے میرے پیارے بیٹے! آج تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا؟ میں نے عرض کیا: مجھے نبی کریم ﷺ نے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیج دیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ضرورت تھی؟ میں نے جواب دیا: اے امی جان! وہ ایک راز ہے۔
میری والدہ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے بیٹے! پھر تم اللہ کے نبی ﷺ کے راز کی خوب حفاظت کرنا اور اسے کسی پر ظاہر نہ کرنا۔“ راویِ حدیث ثابت بن بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے ابو حمزہ! کیا آپ کو وہ بات آج بھی یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”بے شک میں اسے (اپنے سینے میں) محفوظ رکھے ہوئے ہوں، اور اے ثابت! اگر میں وہ بات کسی کو بتانے والا ہوتا تو آپ کو ضرور بتا دیتا۔“
امام ابن ابی عمر رحمہ اللہ نے ایک کوفی بزرگ کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں ثابت کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو میں نے انہیں ثابت سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرے پاس رسول اللہ ﷺ کا ایک راز ہے، اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اس سے باخبر کرتا تو تمہیں ضرور کر دیتا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2688
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 12967»