المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ بمن يبدأ بالكتاب باب: خط میں سب سے پہلے کس کا نام لکھا جائے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2686
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : كَتَبَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ : مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : ابْنُ عَبْدِ قَيْسٍ ، " أَمَّا بَعْدُ : إِنْ كُنْتَ تَغَيَّرْتَ فَعُدْ ، وَإِنْ كُنْتَ لَمْ تَتَغَيَّرْ فَدُمْ ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ " .ترجمہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عامر بن عبد اللہ کی طرف خط لکھا، جس کا مضمون یہ تھا: ”عبد اللہ بن قیس (ابوموسیٰ اشعری) کی جانب سے عامر بن عبد اللہ کے نام، جنہیں ابن عبدِ قیس کہا جاتا ہے؛ حمد و ثنا کے بعد! اگر تمہارے احوال (زہد و تقویٰ اور سابقہ نیک روش سے) بدل گئے ہیں تو اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ آؤ، اور اگر تم نہیں بدلے (بلکہ نیکی پر ثابت قدم ہو) تو اسی پر ہمیشگی اختیار کرو، اور تم پر سلامتی ہو۔“
[أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف: 34327، وهناد بن السري في الزهد: 472، وإسناده صحيح]