المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ قطع الجرس مِنْ الدواب باب: جانوروں کے گلے سے گھنٹی اتارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2685
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَوْطُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى ، قَالَ : إِنَّ رُفْقَةً أَقْبَلَتْ مِنْ مُضَرَ فِيهَا جَرَسٌ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْطَعُوهُ ، فَمِنْ ثَمَّةَ كُرِهَ الْجَرَسُ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .ترجمہ
سیدنا حوط بن عبد العزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ مضر سے تعلق رکھنے والا ایک قافلہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے ساتھ گھنٹی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا کہ ”وہ اسے کاٹ دیں (یعنی اتار دیں)“، چنانچہ اسی وقت سے گھنٹی کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں رہتے جس میں گھنٹی ہو۔“
اس کی سند حسن ہے اور اسے امام احمد نے بھی روایت کیا ہے، جبکہ اس مفہوم کی اصل صحیح مسلم میں موجود ہے۔