❮
❯
حدیث نمبر: 2685
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَوْطُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى ، قَالَ : إِنَّ رُفْقَةً أَقْبَلَتْ مِنْ مُضَرَ فِيهَا جَرَسٌ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْطَعُوهُ ، فَمِنْ ثَمَّةَ كُرِهَ الْجَرَسُ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
ترجمہ

سیدنا حوط بن عبد العزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ مضر سے تعلق رکھنے والا ایک قافلہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے ساتھ گھنٹی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا کہ ”وہ اسے کاٹ دیں (یعنی اتار دیں)“، چنانچہ اسی وقت سے گھنٹی کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں رہتے جس میں گھنٹی ہو۔“
اس کی سند حسن ہے اور اسے امام احمد نے بھی روایت کیا ہے، جبکہ اس مفہوم کی اصل صحیح مسلم میں موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2685
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 2113، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 1703، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 2555، وأخرجه مسند أحمد برقم: 8772، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2676، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2553، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5477»