❮
❯
حدیث نمبر: 2679
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَاضَعَ لِي هَكَذَا رَفَعْتُهُ هَكَذَا " ، وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ جَعَلَ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَرَفَعَهَا نَحْوَ السَّمَاءِ .
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میرے لیے اس طرح عاجزی و انکساری اختیار کرے، میں اسے اس طرح رفعت و بلندی عطا کروں گا۔“ اس دوران آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کا اندرونی حصہ زمین کی جانب جھکا کر (عجز و انکسار کا) اشارہ فرمایا، پھر اپنی ہتھیلی کا رخ آسمان کی طرف پھیرا اور اسے اوپر کی جانب بلند کر کے (عظمت و سرفرازی کے مقام کو) واضح فرمایا۔
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیة الباحث: 2679) میں روایت کیا ہے، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کی تخریج کرتے ہوئے اسے حسن قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2679
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 311، وأخرجه مسند البزار برقم: 175، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 618، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5388»