المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكبر ومدح التواضع باب: تکبر کی مذمت اور عاجزی و انکساری کی تعریف و توصیف کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَاضَعَ لِي هَكَذَا رَفَعْتُهُ هَكَذَا " ، وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ جَعَلَ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَرَفَعَهَا نَحْوَ السَّمَاءِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میرے لیے اس طرح عاجزی و انکساری اختیار کرے، میں اسے اس طرح رفعت و بلندی عطا کروں گا۔“ اس دوران آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کا اندرونی حصہ زمین کی جانب جھکا کر (عجز و انکسار کا) اشارہ فرمایا، پھر اپنی ہتھیلی کا رخ آسمان کی طرف پھیرا اور اسے اوپر کی جانب بلند کر کے (عظمت و سرفرازی کے مقام کو) واضح فرمایا۔
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیة الباحث: 2679) میں روایت کیا ہے، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کی تخریج کرتے ہوئے اسے حسن قرار دیا ہے۔