المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكبر ومدح التواضع باب: تکبر کی مذمت اور عاجزی و انکساری کی تعریف و توصیف کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : ائْذَنْ لِرَدِيفِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعُظَمَاؤُكُمْ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنَ الْجُعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ الْخُرْءَ بِآنَافِهَا " ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ ، وَذَمِّي شَيْنٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبْتَ ، ذَاكَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک شخص نے (حاضری کی) اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ”نعمان بن منذر کے ہم نشین (اور اس کے پیچھے سواری پر بیٹھنے والے) کو اندر آنے کی اجازت دیجیے“، تو رسول اللہ ﷺ نے (اس کے فخر و غرور پر) ارشاد فرمایا: ”تمہارے یہ (دنیاوی لحاظ سے) بڑے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان گبریلوں (گوبر کے کیڑوں) سے بھی زیادہ حقیر و ذلیل ہیں جو اپنی ناکوں سے گندگی دھکیلتے ہیں“، پھر ایک اور شخص نے اجازت چاہی اور (اپنی بڑائی بیان کرتے ہوئے) کہا کہ ”بے شک میری تعریف (کسی کے لیے) باعثِ زینت ہے اور میری مذمت باعثِ عار و رسوائی ہے“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو نے جھوٹ کہا، یہ (کبریائی اور صفت) تو صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے“۔
اس روایت کی سند میں عبد العزیز بن ابان کذاب اور متروک راوی ہے، البتہ اس کا آخری حصہ ”میری تعریف زینت اور مذمت عیب ہے“ دیگر احادیث میں بھی مروی ہے جو ضعیف ہیں، تاہم اس کا صحیح مفہوم اللہ تعالیٰ کی شانِ الوہیت کو واضح کرتا ہے۔