المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكبر ومدح التواضع باب: تکبر کی مذمت اور عاجزی و انکساری کی تعریف و توصیف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2678
وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : " مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا وَفِي رَأْسِهِ حِكْمَةٌ ، وَهِيَ بِيَدِ مَلَكٍ ، فَإِنْ تَوَاضَعَ رَفَعَهُ ، وَإِنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ " .ترجمہ
کعب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے مگر اس کے سر میں (عزت و وقار کی) ایک لگام ہوتی ہے جو ایک فرشتے کے ہاتھ میں تھمائی گئی ہے؛ پس اگر وہ بندہ عاجزی و انکساری اختیار کرتا ہے تو وہ فرشتہ اسے بلند و سرفراز کر دیتا ہے، اور اگر وہ تکبر و بڑائی کا اظہار کرتا ہے تو وہ فرشتہ اسے پست و خوار کر دیتا ہے“۔
امام احمد بن حنبل نے اسے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔