❮
❯
حدیث نمبر: 2677
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِنَ الْكِبْرِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ ، إِلَّا جَعَلَهُ اللهُ فِي النَّارِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أُحِبُّ الْجَمَالَ ، بِحِمَالَةِ سَيْفِي ، وَبِغَسْلِ ثِيَابِي مِنَ الدَّرَنِ ، وَبِحُسْنِ الشِّرَاكِ وَالنِّعَالِ ، فَقَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ أَعْنِي ، إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ " ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، وَمَا السَّفَهُ عَنِ الْحَقِّ ، وَغَمْصُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّفَهُ عَنِ الْحَقِّ : أَنْ يَكُونَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ مَالٌ ، فَيُنْكِرُ ذَلِكَ ، وَيَزْعُمُ أَنْ لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، فَيَأْمُرُهُ رَجُلٌ بِتَقْوَى اللهِ فَيَأْبَى ، وَأَمَّا الْغَمْصُ ، فَهُوَ الَّذِي يَجِيءُ النَّاسَ شَامِخًا بِأَنْفِهِ ، وَإِذَا رَأَى ضُعَفَاءَ النَّاسِ وَفُقَرَاءَهُمْ لَمْ يُسَلِّمْ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يَجْلِسْ إِلَيْهِمْ مَحْقَرَةً لَهُمْ ، فَذَلِكَ الَّذِي يَغْمِصُ النَّاسَ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَقَّعَ ثَوْبَهُ ، وَخَصَفَ نَعْلَهُ ، وَرَكِبَ الْحِمَارَ ، وَعَادَ الْمَمْلُوكَ إِذَا مَرِضَ ، وَحَلَبَ الشَّاةَ ، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الْعَظَمَةِ " .
وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى بَقِيَّةُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْفَضَائِلِ ، فِي تَرْجَمَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”روئے زمین پر جو بھی شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا، تو اللہ تعالیٰ اسے (جہنم کی) آگ میں ڈال دے گا۔“ اس پر ایک انصاری شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں، حتیٰ کہ اپنی تلوار کے پرتلے (حمائل)، اپنے کپڑوں کو میل کچیل سے پاک رکھنے اور اپنے جوتوں کے تسموں اور جوتیوں کی عمدگی میں بھی جمال کو پسند کرتا ہوں (تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟)؛ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرا یہ مطلب نہیں ہے، بلکہ تکبر تو حق کو ناچیز و ہیچ سمجھنا اور لوگوں کو ذلیل و خوار جاننا ہے۔“ اس شخص نے پھر دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! حق کو ناچیز سمجھنے اور لوگوں کو ذلیل جاننے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حق کو ناچیز سمجھنا یہ ہے کہ تمہارا کسی شخص پر مالی حق (قرض وغیرہ) ہو اور وہ اس کا انکار کر دے اور یہ دعویٰ کرے کہ اس کے ذمے کچھ نہیں ہے، پھر جب اسے کوئی شخص اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرے تو وہ (حق تسلیم کرنے سے) انکار کر دے۔ رہا لوگوں کو ذلیل سمجھنا، تو وہ ایسا شخص ہے جو لوگوں کے پاس ناک چڑھا کر (تکبر کے ساتھ) آتا ہے، اور جب وہ معاشرے کے کمزور اور غریب لوگوں کو دیکھتا ہے تو انہیں حقیر گردانتے ہوئے نہ تو انہیں سلام کرتا ہے اور نہ ہی ان کے پاس بیٹھتا ہے؛ پس یہی وہ شخص ہے جو لوگوں کو ذلیل سمجھتا ہے۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے اپنے کپڑے پر پیوند لگایا، اپنی جوتی خود گانٹھی، گدھے پر سواری کی، غلام کے بیمار ہونے پر اس کی عیادت کی اور خود بکری کا دودھ دوہا، وہ بڑائی (کے زعم اور تکبر) سے بری ہو گیا۔“
ان شاء اللہ تعالیٰ اس حدیث کا بقیہ حصہ 'کتاب الفضائل' میں سیدنا عبداللہ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے تذکرے میں آئے گا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2677
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 673، وأخرجه مسند البزار برقم: 5140، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4043، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 12235»