المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكبر ومدح التواضع باب: تکبر کی مذمت اور عاجزی و انکساری کی تعریف و توصیف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2676
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ بِالْحِلْمِ ، وَإِنَّهُ لَيُكْتَبُ جَبَّارًا ، وَمَا يَمْلِكُ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِهِ " .ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ انسان اپنی بردباری، تحمل مزاجی اور حلم و وقار کے سبب اس شخص کا بلند مرتبہ حاصل کر لیتا ہے جو کثرت سے (دن کو) روزے رکھنے والا اور (راتوں کو) قیام کرنے والا ہو، اور بسا اوقات کسی شخص کا نام جابر و سرکش لوگوں کے رجسٹر میں درج کر دیا جاتا ہے حالانکہ وہ سوائے اپنے اہل خانہ کے کسی اور پر حکمرانی یا اختیار نہیں رکھتا ہوتا۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش اور عبد العزیز بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں۔