❮
❯
حدیث نمبر: 2675
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : " إِنِّي جَعَلْتُ نَسَبًا ، وَجَعَلْتُمْ نَسَبًا ، فَجَعَلْتُ أَكْرَمَكُمْ أَتْقَاكُمْ ، وَأَنْتُمْ تَقُولُونَ : يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانٍ ، وَأَنَا أَكْرَمُ مِنْكَ ، وَأَنَا الْيَوْمَ أَرْفَعُ نَسَبِي ، وَأَضَعُ نَسَبَكُمْ ، أَيْنَ الْمُتَّقُونَ ؟ " .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا: ”بے شک میں نے ایک نسب (شرف و فضیلت کا معیار) مقرر کیا تھا اور تم لوگوں نے بھی اپنا ایک الگ نسب وضع کر لیا تھا۔ میں نے تم میں سب سے زیادہ معزز اسے ٹھہرایا تھا جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ [سورة الحجرات: 13]، جبکہ تم (دنیا میں) یہ کہتے تھے کہ: اے فلاں کے بیٹے فلاں! اور میں تجھ سے زیادہ باعزت ہوں؛ چنانچہ آج میں اپنے مقرر کردہ نسب کو سربلند کروں گا اور تمہارے ان (خود ساختہ) نسبوں کو پست کر دوں گا، کہاں ہیں تقویٰ اختیار کرنے والے؟“
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی طلحہ بن عمرو بن عثمان حضرمی متروک الحدیث ہے، تاہم اس کا متن قرآنی نصوص کے موافق ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2675
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا؛ فيه طلحة بن عمرو المتروك. »
«أخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 615، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13082، 13083، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5385»