المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الغيبة باب: غیبت (یعنی پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2670
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَعْجَزَ فُلَانًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلْتُمْ لَحْمَ أَخِيكُمْ وَاغْتَبْتُمُوهُ " .
2670 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا قُرَّانُ بِهِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے کہ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! فلاں شخص کتنا زیادہ عاجز و ناتواں ہے!“ تو آپ ﷺ نے (تنبیہاً) ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے بھائی کا گوشت کھا لیا ہے اور تم نے اس کی غیبت کی ہے۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی مسند میں عمرو الناقد کے واسطے سے قران بن تمام سے یہی روایت نقل کی ہے۔