المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الغيبة باب: غیبت (یعنی پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2671
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : " الْغِيبَةُ أَنْ تَذْكُرَ مِنْ أَخِيكَ أَسْوَأَ مَا تَعْلَمُ فِيهِ ، فَإِذَا ذَكَرْتَ مَا لَيْسَ فِيهِ ، فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ " .
( 105 ) حَدِيثُ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَقَدَّمَ فِي النَّهْيِ عَنْ تَتَبُّعِ الْعَوْرَاتِ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”غیبت (پیٹھ پیچھے برائی کرنا) یہ ہے کہ تم اپنے دینی بھائی کی ان بدترین باتوں یا عیوب کا تذکرہ کرو جن کے متعلق تم جانتے ہو کہ وہ اس میں موجود ہیں، پس اگر تم نے اس کے بارے میں ایسی کسی بات کا ذکر کیا جو اس میں سرے سے نہیں پائی جاتی، تو یہی بہتان (تہمت تراشی) ہے“۔
(105) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث، لوگوں کے پوشیدہ عیوب کی ٹوہ میں رہنے اور ان کی پردہ دری کرنے کی ممانعت کے باب میں پہلے گزر چکی ہے۔