المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الغيبة باب: غیبت (یعنی پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ وَلَيْسَ بِالْأَحْمَرِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَوَقَعَ فِيهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَخَلَّلْ " ، فَقَالَ : مِمَّ أَتَخَلَّلُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ مَا أَكَلْتُ لَحْمًا فَأَتَخَلَّلَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى ، مِنْ لَحْمِ أَخِيكَ أَكَلْتَ آنِفًا " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب مجلس سے اٹھ کر چلے گئے، ان کے جانے کے بعد ایک دوسرے شخص نے ان کے بارے میں نازیبا کلمات کہے اور ان کی عیب جوئی کی، جس پر رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا: ”«تَخَلَّلْ» (اپنے دانتوں میں خلال کرو)“۔ اس نے حیرت سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس چیز کی وجہ سے خلال کروں؟ میں نے تو کوئی گوشت نہیں کھایا جس کے ریشے نکالنے کے لیے خلال کرنا پڑے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیوں نہیں، بلکہ تم نے ابھی ابھی اپنے بھائی کا گوشت کھایا ہے (یعنی غیبت کر کے تم اس گناہ کے مرتکب ہوئے ہو جس کی تصویر کشی اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمائی: ﴿أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ﴾ [سورة الحجرات: 12])“۔
[تخریج: اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند حسن ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں]۔