❮
❯
حدیث نمبر: 2668
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَضَّاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي رَجْمِهِ ، قَالَ : فَأَتَى عَلَيْهِ رَجُلَانِ ، فَقَالَا : يَا خَيَّبَ هَذَا ، سَتَرَ اللهُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَسْتُرْ عَلَى نَفْسِهِ ، فَأُهِيجَ كَمَا أُهِيجَ الْكَلْبُ ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِيفَةٍ ، فَقَالَ : " انْهَسَا مِنْ هَذِهِ الْجِيفَةِ " فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذِهِ الْجِيفَةُ ، لَا نَسْتَطِيعُهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَصَبْتُمَا مِنْ أَخِيكُمَا أَنْتَنُ مِنْ هَذِهِ الْجِيفَةِ " .
تَابَعَهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ مِنْ طَرِيقِهِ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں) حاضر ہوئے، پھر راوی نے ان کے رجم (سنگسار کیے جانے) کا مفصل واقعہ ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: (ان کے رجم کے بعد) دو آدمی وہاں سے گزرے تو ان میں سے ایک نے (دوسرے سے) کہا: ”ہائے اس شخص کی محرومی و رسوائی! اللہ تعالیٰ نے تو اس کے معاملے پر پردہ ڈال دیا تھا، مگر اس نے خود اپنے آپ پر پردہ نہیں رکھا، یہاں تک کہ اسے کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا“، پھر نبی کریم ﷺ کا گزر ایک مردار (جانور کی لاش) پر سے ہوا تو آپ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اس مردار میں سے نوچ کر کھاؤ“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ تو مردار ہے، ہم اسے کھانے کی قطعاً ہمت نہیں رکھتے، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم دونوں نے ابھی (غیبت کے ذریعے) اپنے بھائی کی جو آبرو ریزی کی ہے، وہ اس مردار کو کھانے سے کہیں زیادہ بدبودار ہے“۔
زید بن ابی انیسہ نے بھی ابوزبیر سے اس روایت کی متابعت کی ہے اور امام ابن حبان نے اسے ان کے طریق سے تخریج کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2668
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 5271، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1691، وأخرجه المنتقى لابن الجارود برقم: 884، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 4400، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 8174، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 7127، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 4428، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 1428، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2554، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 17027، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 3442، وأخرجه مسند أحمد برقم: 7965، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 2595، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6140، وأخرجه مسند البزار برقم: 7667، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 13340، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 29363، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 4865، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 433، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5684»