المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الغيبة باب: غیبت (یعنی پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَضَّاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي رَجْمِهِ ، قَالَ : فَأَتَى عَلَيْهِ رَجُلَانِ ، فَقَالَا : يَا خَيَّبَ هَذَا ، سَتَرَ اللهُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَسْتُرْ عَلَى نَفْسِهِ ، فَأُهِيجَ كَمَا أُهِيجَ الْكَلْبُ ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِيفَةٍ ، فَقَالَ : " انْهَسَا مِنْ هَذِهِ الْجِيفَةِ " فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذِهِ الْجِيفَةُ ، لَا نَسْتَطِيعُهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَصَبْتُمَا مِنْ أَخِيكُمَا أَنْتَنُ مِنْ هَذِهِ الْجِيفَةِ " .
تَابَعَهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ مِنْ طَرِيقِهِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں) حاضر ہوئے، پھر راوی نے ان کے رجم (سنگسار کیے جانے) کا مفصل واقعہ ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: (ان کے رجم کے بعد) دو آدمی وہاں سے گزرے تو ان میں سے ایک نے (دوسرے سے) کہا: ”ہائے اس شخص کی محرومی و رسوائی! اللہ تعالیٰ نے تو اس کے معاملے پر پردہ ڈال دیا تھا، مگر اس نے خود اپنے آپ پر پردہ نہیں رکھا، یہاں تک کہ اسے کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا“، پھر نبی کریم ﷺ کا گزر ایک مردار (جانور کی لاش) پر سے ہوا تو آپ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اس مردار میں سے نوچ کر کھاؤ“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ تو مردار ہے، ہم اسے کھانے کی قطعاً ہمت نہیں رکھتے، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم دونوں نے ابھی (غیبت کے ذریعے) اپنے بھائی کی جو آبرو ریزی کی ہے، وہ اس مردار کو کھانے سے کہیں زیادہ بدبودار ہے“۔
زید بن ابی انیسہ نے بھی ابوزبیر سے اس روایت کی متابعت کی ہے اور امام ابن حبان نے اسے ان کے طریق سے تخریج کیا ہے۔