❮
❯
حدیث نمبر: 2667
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقِيلَ : مَا أَعْجَزَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْتَبْتُمْ أَخَاكُمْ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، قُلْنَا مَا فِيهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قُلْتُمْ مَا لَيْسَ فِيهِ ، فَقَدْ بَهَتُّمُوهُ " .
ترجمہ

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مجلسِ اقدس میں ایک شخص کا تذکرہ کیا گیا تو (اس کی سستی یا کمزوری کی بنا پر) عرض کیا گیا: ”وہ کتنا بے بس اور ناتواں ہے“، اس پر نبی کریم ﷺ نے (تنبیہاً) ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے بھائی کی غیبت کی ہے“۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے تو وہی بات کہی ہے جو (فی الواقع) اس میں موجود ہے“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم ایسی بات کہتے جو اس میں موجود نہ ہوتی، تو تم اس پر بہتان (تہمت) لگاتے (اور چونکہ تم نے اس کے پیٹھ پیچھے اس کے حقیقی عیب کا تذکرہ کیا ہے، اس لیے یہ غیبت ہے)“۔
تخریج و تحکیم: اس حدیث کی سند میں مثنیٰ بن صباح راوی ضعیف ہے، تاہم غیبت اور بہتان کی یہ وضاحت صحیح مسلم [البر والصلة: 2589] کی مستند حدیث سے بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2667
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13145، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5367»