المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ النميمة باب: چغلی کی مذمت اور اس کی برائی کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِيَارُكُمْ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللهُ ، وَارْتَاحَتْ قُلُوبُهُمْ ، أَوَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى : قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ شِرَارَكُمُ الْمَاشُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْبَاغُونَ لِلْبَرَاءِ الْعَنَتَ " .سیدہ اسماء بنتِ یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! کیا میں تمہیں تمہارے بہترین افراد کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے اور (انہیں دیکھ کر) دلوں کو راحت و سکون نصیب ہو، کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں (ضرور بتائیں)۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً تمہارے بدترین وہ لوگ ہیں جو چغل خوری کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والے ہیں، آپس میں محبت رکھنے والوں کے درمیان فساد و بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں اور «الْبَاغُونَ لِلْبَرَاءِ الْعَنَتَ» یعنی ”بے گناہ و پاک باز لوگوں کے لیے عیب، مشقت اور تکلیف تلاش کرنے والے ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں شہر بن حوشب ہیں جن کے حافظہ پر کلام ہے، تاہم شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔