❮
❯
حدیث نمبر: 2664
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ حَبِيبِ بْنِ نَجِيحٍ ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ثَلَاثَةٌ يَلْعَنُهُمُ اللهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ رَغِبَ عَنْ وَالِدَيْهِ ، وَآخَرُ سَعَى فِي تَفْرِيقٍ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ لِيَخْلُفَ عَلَيْهَا بَعْدَهُ ، وَآخَرُ سَعَى بِالْأَحَادِيثِ بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ ، لِيَتَعَادَوْا وَيَتَبَاغَضُوا " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تین اشخاص ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لعنت فرمائے گا: ایک وہ شخص جس نے اپنے والدین سے بے رغبتی اختیار کی (یعنی ان سے اپنا ناطہ توڑ لیا یا ان کا نسب تسلیم کرنے سے انکار کر دیا)، دوسرا وہ شخص جس نے کسی شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کی تگ و دو کی تاکہ وہ ان کے علیحدہ ہونے کے بعد خود اس عورت سے نکاح کر سکے، اور تیسرا وہ شخص جس نے اہل ایمان کے مابین چغل خوری اور باتوں کے ذریعے فساد پھیلانے کی سعی کی تاکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں اور آپس میں بغض و کینہ رکھنے لگیں۔“
اس روایت کی سند میں بقیہ بن ولید "مدلس" ہیں اور انہوں نے حبیب بن نجیح سے سماع کی صراحت نہیں کی، نیز حبیب نے مبہم راویوں (بعض اہل مدینہ) سے روایت لی ہے، لہذا علمی و فنی اعتبار سے یہ روایت ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2664
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9595، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 586»