المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ النميمة باب: چغلی کی مذمت اور اس کی برائی کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : شَرُّ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ مُتَكَبِّرٌ عَلَى وَالِدَيْهِ يُحَقِّرُهُمَا ، وَرَجُلٌ سَعَى فِي فَسَادٍ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ يَنْصُرُهُ عَلَيْهَا غَيْرَ الْحَقِّ حَتَّى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا مِنْ بَعْدِهِ ، وَرَجُلٌ سَعَى فِي فَسَادٍ بَيْنَ النَّاسِ بِالْكَذِبِ ، حَتَّى تَعَادَوْا ، وَتَبَاغَضُوا .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بدترین انسان تین طرح کے ہیں: ایک وہ شخص جو اپنے والدین کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرے اور ان کی تذلیل و تحقیر کرے، دوسرا وہ شخص جو کسی مرد اور اس کی بیوی کے درمیان بگاڑ پیدا کرنے کی تگ و دو کرے اور اس معاملے میں ناحق طور پر اس مرد کی اس کی بیوی کے خلاف مدد کرے یہاں تک کہ ان میں تفریق کروا دے، پھر اس کے بعد خود اس عورت سے نکاح کر لے، اور تیسرا وہ شخص جو جھوٹ کے ذریعے لوگوں کے درمیان فساد پھیلانے کی کوشش کرے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں اور آپس میں بغض و عداوت رکھنے لگیں۔“
اس اثر کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً کمزور ہے۔