❮
❯
حدیث نمبر: 2656
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ هُوَ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ مِنْ خَلْقِ اللهِ فَارْدُدْ عَلَيْهِ وَإِنْ كَانَ مَجُوسِيًّا ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ، أَوْ رُدُّوهَا عَلَى الْمُشْرِكِ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی مخلوق میں سے جو کوئی بھی تمہیں سلام کہے تو تم اسے جواب دو، خواہ وہ مجوسی (آتش پرست) ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ [سورة النساء: 86]، (جس کا مفہوم یہ ہے کہ) اہلِ اسلام کے لیے اس سے بہتر کلمات کے ساتھ جواب دو، یا مشرک کے لیے وہی کلمات لوٹا دو۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2656
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 1530، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 26279»