❮
❯
حدیث نمبر: 2655
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْكِنْدِيُّ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ كِنْدَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَتَاهُ أُسْقُفُّ نَجْرَانَ ، فَأَوْسَعَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَتُوسِعُ لِهَذَا النَّصْرَانِيِّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْسَعَ لَهُمْ " .
ترجمہ

قبیلہ کِندہ کے ایک بزرگ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نجران کا پادری (بشپ) آپ کے پاس آیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے بیٹھنے کے لیے جگہ کشادہ کر دی، اس پر ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اے امیر المومنین! کیا آپ اس نصرانی کے لیے جگہ کشادہ فرما رہے ہیں؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتے تھے تو آپ ﷺ بھی ان کے لیے جگہ کشادہ فرما دیا کرتے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی عمر نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم (غیر معروف) ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2655
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف؛ فيه راوٍ مبهم. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»