المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ السلام عَلَى الكفار بإكرام الأكابر منهم باب: کفار میں سے ان کے بڑوں اور معززین کی عزت و تکریم کی خاطر انہیں سلام کرنے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ قَالَ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى ذِمِّيٍّ ، فَبَدَأَهُ بِالسَّلَامِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَتَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک ذمی (اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری) کو خط لکھا تو اس کی ابتدا سلام سے کی، میں نے (تعجب کا اظہار کرتے ہوئے) ان سے عرض کی کہ کیا آپ (ایک غیر مسلم کے لیے) سلام سے آغاز فرما رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ہی السلام (سلامتی کا منبع اور سلامتی دینے والا) ہے“۔
اس اثر کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں شریک بن عبداللہ قاضی موجود ہیں جو کہ صدوق ہیں لیکن ان کے حافظے میں خرابی کی بنا پر یہ سند حسن درجے کی ہے۔