المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ الَّذِي ذَكَّرَهُ بِمِيقَاتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ : بَلَى اشْهَدُوا أَنَّا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ، ثُمَّ نَأْتِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَهِيَ عَلَى مِيلَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ ، وَإِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُفْقَدْ " .ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس انصاری شخص سے، جس نے انہیں نمازِ عصر کے وقت کی یاددہانی کروائی تھی، فرمایا: ”ہاں، تم اس بات کی گواہی دو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز (اس وقت) ادا کیا کرتے تھے جب سورج بالکل سفید اور مصفّٰی (یعنی اپنی پوری تمازت اور روشنی کے ساتھ بلند) ہوتا تھا، پھر ہم (وہاں سے) بنو عمرو بن عوف کے ہاں جاتے تھے، حالانکہ وہ مقام مدینہ منورہ سے دو میل کے فاصلے پر واقع تھا، اور اس وقت بھی سورج اپنی اسی اصلی چمک دمک کے ساتھ موجود ہوتا تھا (یعنی اس میں زردی نہیں آتی تھی)۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی داؤد بن المحبر کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔