❮
❯
حدیث نمبر: 266
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَازِبٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، فَقَدَّمَ وَأَخَّرَ وَقَالَ : " الْوَقْتُ مَا بَيْنَهُمَا " .
ترجمہ

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے نماز کے اوقات کے متعلق دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے (نماز کی ادائیگی میں) تقدیم و تاخیر فرمائی (یعنی ایک دن اول وقت اور دوسرے دن آخر وقت میں نماز پڑھ کر دکھائی) اور ارشاد فرمایا: ”نماز کا وقت ان دونوں (اوقات) کے درمیان ہے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (266) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں، تاہم اوقاتِ نماز کی تعیین کے حوالے سے دیگر صحیح احادیث کتبِ ستہ وغیرہ میں موجود ہیں جو اس مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 266
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1679، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 266»