❮
❯
حدیث نمبر: 2644
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ شُعْبَةَ بَصْرِيٌّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْسِنُوا جِوَارَ نِعَمِ اللهِ ، لَا تُنَفِّرُوهَا ، فَقَلَّمَا زَالَتْ عَنْ قَوْمٍ ، فَعَادَتْ إِلَيْهِمْ " .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کے ساتھ بہترین سلوک اور حسنِ رفاقت اختیار کرو، اپنی ناشکری اور معصیت کے ذریعے انہیں خود سے بدکنے اور دور ہونے پر مجبور نہ کرو، کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب نعمتیں کسی قوم سے رخصت ہو جائیں تو وہ شاذ و نادر ہی ان کی طرف دوبارہ لوٹ کر آتی ہیں۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عثمان بن مطر کو اکثر ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم حدیث کا مفہوم شریعت کے دیگر نصوص اور اصولوں کے مطابق درست ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2644
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13738، 13739، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5543، 7177»