المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ أدب الركوب باب: سواری کرنے کے آداب کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ : أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى رَجُلًا رَاكِبًا يَسْعَى خَلْفَهُ إِنْسَانٌ ، فَقَالَ : يَا فُلَانُ ، لَوْ حَمَلْتَ هَذَا خَلْفَكَ ، قَالَ : وَأَنَا كُنْتُ أَحْمِلُ هَذَا الْعِلْجَ خَلْفِي ، قَالَ : فَلَوْ بَعَثْتَهُ إِلَى حَيْثُ تُرِيدُ ، قَالَ : مَا فَعَلْتُ ، قَالَ : فَلَوِ اسْتَبْدَلْتَ أَخَفَّ مِنْهُ ، قَالَ : مَا فَعَلْتُ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَعَى خَلْفَهُ إِنْسَانٌ ، وَهُوَ رَاكِبٌ ، لَمْ يَزِدْهُ اللهُ تَعَالَى إِلَّا بُعْدًا " .سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک سوار شخص کو دیکھا جس کے پیچھے پیچھے ایک دوسرا آدمی (پیدل) دوڑ رہا تھا، تو انہوں نے اس سوار سے فرمایا: ”اے فلاں! کاش تم اس شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے؟“ اس نے جواب دیا: ”کیا میں اس ہٹے کٹے شخص کو اپنے پیچھے بٹھاؤں؟“ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو پھر تم اسے اس مقام کی طرف پہلے ہی کیوں نہیں بھیج دیتے جہاں تم خود جانا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا: ”میں نے ایسا نہیں کیا (یعنی وہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے)۔“ انہوں نے فرمایا: ”تو پھر تم اس کے بدلے میں کوئی اس سے دبلا پتلا اور ہلکا پھلکا خادم کیوں نہیں رکھ لیتے؟“ اس نے کہا: ”میں نے ایسا نہیں کیا۔“ تو سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”(تمہارا یہ رویہ درست نہیں) کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کے پیچھے کوئی انسان اس حال میں دوڑ رہا ہو کہ وہ خود سوار ہو، تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی (اپنی رحمت سے) دوری میں ہی اضافہ فرماتا ہے۔““
اس حدیث کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہے، تاہم یہ روایت مختلف کتبِ احادیث میں موجود ہے اور سوار کے پیچھے خادم یا کسی انسان کے دوڑنے کو تکبر کی علامت ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔