المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ أدب الركوب باب: سواری کرنے کے آداب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، حَدَّثَنَا فَائِدٌ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنْ خَيْبَرَ ، قَدْ أَرْدَفَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَلَى حَقِيبَتِهِ ، وَأَبُو رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى جَمَلٍ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، انْزِلْ عَنِ الْجَمَلِ ، وَاحْمِلْ عَلَيْهِ صَفِيَّةَ ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ قَبْلَ أَنْ نَدْخُلَ الْمَدِينَةَ " ، قَالَ : فَسَارَ أَبُو رَافِعٍ ، حَتَّى أَدْخَلَهَا الْمَدِينَةَ .سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن خیبر سے واپس تشریف لائے، آپ ﷺ نے اپنی سواری کے کجاوے کے پچھلے حصے پر سیدہ صفیہ بنت حیّ رضی اللہ عنہا کو بٹھا رکھا تھا، جبکہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ایک علیحدہ اونٹ پر سوار تھے۔ جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابورافع! تم اپنے اونٹ سے اترو اور اس پر صفیہ کو سوار کر لو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی صبح کا اجالا نہ پھیل جائے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہیں مدینہ منورہ میں بحفاظت داخل کر دیا۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی فائد بن عبد الرحمن العطار کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔