المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ أدب الركوب باب: سواری کرنے کے آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2637
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ كَعْبٍ هُوَ الْقُرَظِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ رُفَيْعٌ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَجُزِ نَاقَتِهِ لَيْلًا ، فَجَعَلْتُ أَنْعَسُ ، فَيَمَسُّنِي ، وَيَقُولُ : " يَا هَذِهِ ، يَا بِنْتَ حُيَيٍّ ، يَا صَفِيَّةُ " .
2637 \ 2 - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَحْوَهُ .ترجمہ
سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے رات کے وقت مجھے اپنی اونٹنی کے پچھلے حصے پر اپنے پیچھے سوار کیا، پھر مجھ پر نیند کا غلبہ ہونے لگا اور میں اونگھنے لگی، تو آپ ﷺ (مجھے گرنے سے بچانے یا بیدار کرنے کے لیے) مجھے دستِ مبارک سے چھوتے اور فرماتے: ”اے صاحبہ! اے حی کی بیٹی! اے صفیہ!“
ابن نمیر نے بھی یونس بن بکیر کے واسطے سے اسی کے مانند روایت نقل کی ہے۔