المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى شكر النَّعَمِ باب: نعمتوں پر شکر گزاری کی ترغیب دلانے سے متعلق باب۔
حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَلْيُثْنِ بِهِ ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ ، وَمَنْ تَحَلَّ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " ، وَحَرَّكَ بِشْرٌ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى .
2614 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بِهِ بِنَحْوِهِ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو کوئی عطیہ یا تحفہ دیا جائے اور وہ اس کا بدلہ دینے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا بدلہ چکائے، لیکن اگر وہ بدلہ دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ (اپنے محسن کی) تعریف و توصیف کرے، کیونکہ جس نے اس کی تعریف کی اس نے یقیناً اس کا شکریہ ادا کر دیا، اور جس نے اس احسان کو چھپایا اس نے اس کی ناشکری کی۔ نیز جو شخص ایسی چیز کے ذریعے اپنی بڑائی یا زینت ظاہر کرے جو اسے عطا نہیں کی گئی، وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے جھوٹ کے دو لباس پہن رکھے ہوں۔“ اور (راویِ حدیث) بشر نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو حرکت دی۔
امام حارث نے اس روایت کو عبدالعزیز بن ابان، ابراہیم بن طہمان، عمارہ بن غزیہ اور سعید مولیٰ الانصار کے واسطے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اسی کے ہم معنی نقل کیا ہے۔