المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ الغضب باب: غصے سے ممانعت اور اس سے باز رہنے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلًا أَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ ، وَأَقْلِلْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَغْضَبْ " .
قُلْتُ : رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ لَكِنَّهُ شَاذٌّ ، فَإِنَّ الْمَحْفُوظَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، كَذَا هُوَ فِي الصَّحِيحِ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا (جامع) عمل سکھا دیجیے جس کی بدولت میں جنت میں داخل ہو جاؤں، اور بات مختصر رکھیے (تاکہ میں اسے بآسانی محفوظ کر سکوں)۔“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”غصہ نہ کیا کرو۔“
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کے تمام راوی صحیح (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں، لیکن یہ روایت فنی طور پر ”شاذ“ ہے، کیونکہ علمی طور پر محفوظ اور مستند بات یہ ہے کہ یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نہ کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، اور صحیح بخاری میں بھی یہ روایت اسی طرح (یعنی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی) منقول ہے۔