المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بالتستر مِنْ المعصية ولو صغرت باب: گناہ خواہ چھوٹا ہو، اسے چھپانے کے حکم کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَرْيَمَ بِنْتِ طَارِقٍ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ... فَذَكَرْتُ الْحَدِيثَ . قَالَتْ : وَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ كَرِيِّي يَتَنَاوَلُ سَاقِي ، فَأَعْرَضَتْ عَنْهَا بِوَجْهِهَا ، وَقَالَتْ : أَخْرِجِيهَا ، فَأُخْرِجَتِ الْمَرْأَةُ عَنْهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَتْ : " يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا يَمْنَعُ الْمَرْأَةَ إِذَا أَصَابَتِ الذَّنْبَ فَسُتِرَ عَلَيْهَا أَنْ تَسْتُرَ مَا سَتَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا تُبْدِي لِلنَّاسِ ، فَإِنَّ النَّاسَ يُعَيِّرُونَ ، وَلَا يُغَيِّرُونَ ، وَإِنَّ اللهَ يُغَيِّرُ ، وَلَا يُعَيِّرُ " .مریم بنت طارق رحمہا اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا: ”اے ام المؤمنین! میرا کرائے کا اونٹ چلانے والا (ساربان) میری پنڈلی کو چھو لیتا ہے“، تو آپ رضی اللہ عنہا نے اس سے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور فرمایا: ”اسے یہاں سے نکال دو“، چنانچہ اس عورت کو وہاں سے نکال دیا گیا، پھر آپ رضی اللہ عنہا وہاں موجود خواتین کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا: ”اے ایمان والی عورتو! جب کسی عورت سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے، تو اسے کیا چیز اس بات سے روکتی ہے کہ وہ اسے پوشیدہ ہی رکھے جسے اللہ عزوجل نے چھپا دیا ہے، اور اسے لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرے؟ کیونکہ لوگ تو محض طعنہ دیتے ہیں اور وہ (گناہ یا حالت کو) بدل نہیں سکتے، جبکہ اللہ تعالیٰ (گناہ کو توبہ کے ذریعے نیکی سے) بدل دیتا ہے اور وہ طعنہ نہیں دیتا۔“
یہ روایت امام مسدد نے اپنی مسند میں بیان کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔