المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إعطاء الشاعر باب: شاعر کو (صلہ و انعام) دینے سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2608
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي مَدَحْتُ اللهَ مِدْحَةً ، وَمَدَحْتُكَ أُخْرَى ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاتِ ، وَابْدَأْ بِمِدْحَةِ اللهِ تَعَالَى " .ترجمہ
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا میں ایک کلام تیار کیا ہے اور ایک مدحت آپ کی شانِ گرامی میں بھی کہی ہے۔“ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ کلام پیش کرو اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے (اپنے کلام کا) آغاز کرو۔“
اس روایت کی سند میں علی بن زید بن جدعان راوی ضعیف ہے، تاہم اس کے شواہد دیگر کتبِ احادیث میں موجود ہیں جن سے اس کی اصل ثابت ہوتی ہے۔