المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إعطاء الشاعر باب: شاعر کو (صلہ و انعام) دینے سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2607
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : " إِنَّ رَجُلًا مَدَحَ اللهَ تَعَالَى ، وَمَدَحَ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَدْحِهِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي خَلَقَهُ ، وَلَمْ يُعْطِهِ لِمَدْحِهِ نَفْسَهُ " .ترجمہ
محمد بن علی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور رسول اللہ ﷺ کی بھی مدح سرائی کی، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اللہ عزوجل کی اس تعریف و توصیف کی بنا پر تو (مال و متاع) عطا فرمایا جس نے اسے پیدا کیا ہے، لیکن اسے اپنی ذاتِ گرامی کی مدح و ستائش کی وجہ سے کچھ عطا نہیں فرمایا۔“
اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند مرسل ہے۔