❮
❯
حدیث نمبر: 2607
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : " إِنَّ رَجُلًا مَدَحَ اللهَ تَعَالَى ، وَمَدَحَ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَدْحِهِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي خَلَقَهُ ، وَلَمْ يُعْطِهِ لِمَدْحِهِ نَفْسَهُ " .
ترجمہ

محمد بن علی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور رسول اللہ ﷺ کی بھی مدح سرائی کی، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اللہ عزوجل کی اس تعریف و توصیف کی بنا پر تو (مال و متاع) عطا فرمایا جس نے اسے پیدا کیا ہے، لیکن اسے اپنی ذاتِ گرامی کی مدح و ستائش کی وجہ سے کچھ عطا نہیں فرمایا۔“
اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند مرسل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2607
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»