المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الشعر باب: شاعری کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ يَتَغَنَّيَانِ ، وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ ... فَذَكَرَ شِعْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَانِ ؟ " ، فَقِيلَ لَهُ : فُلَانٌ ، وَفُلَانٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْكَسَهُمَا اللهُ تَعَالَى فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا ، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا " .
2605 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، فَذَكَرَهُ ، وَفِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعُوا غِنَاءً ، فَاسْتَشْرَفُوا لَهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَاسْتَمَعَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُحَرَّمَ الْخَمْرُ ، فَأَتَاهُمْ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : هَذَا فُلَانٌ ، وَفُلَانٌ ، وَهُمَا يَتَغَنَّيَانِ يُجِيبُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، وَهُوَ يَقُولُ :
لَا يَزَالُ جَوَارِيَّ لَا يَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أَرْكَسَهُمَا اللهُ فِي الْفِتْنَةِ ، اللَّهُمَّ دُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ " .سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ ﷺ نے دو شخصوں کو گاتے ہوئے سنا، جن میں سے ایک اپنے ساتھی کو اشعار سنا رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ دونوں کون ہیں؟“ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ فلاں اور فلاں ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے بددعا دیتے ہوئے فرمایا: «أَرْكَسَهُمَا اللهُ تَعَالَى فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا ، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا» ”اللہ تعالیٰ ان دونوں کو فتنے میں پوری طرح اوندھا کر دے اور انہیں جہنم کی آگ کی طرف سختی سے دھکیل دے۔“
امام ابوبکر کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے کہ انہوں نے گانے کی آواز سنی تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے، ایک شخص اٹھا اور اس نے غور سے سنا، اور یہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، وہ شخص ان کے پاس گیا اور پھر واپس آکر بتایا کہ یہ فلاں اور فلاں ہیں جو ایک دوسرے کو جواب دیتے ہوئے گا رہے ہیں اور وہ یہ اشعار پڑھ رہا تھا کہ ”میری وہ لونڈیاں جن کی ہڈیاں (دبلے پن کی وجہ سے) ظاہر نہیں ہوتیں، اور جنگ نے اسے اس بات سے بچا لیا کہ وہ دیوانہ ہو کر قبر میں جا پہنچے“، پس رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ مبارک اٹھائے اور فرمایا: «أَرْكَسَهُمَا اللهُ فِي الْفِتْنَةِ ، اللَّهُمَّ دُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ» ”اللہ ان دونوں کو فتنے میں اوندھا کر دے، اے اللہ! ان دونوں کو آگ کی طرف سختی سے دھکیل دے۔“