المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الشعر باب: شاعری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2604
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ الْوَاسِطِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " امْرُؤُ الْقَيْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشِّعْرِ إِلَى النَّارِ " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”امرؤ القیس (دورِ جاہلیت کا نامور شاعر) جہنم کی طرف جانے والے شعراء کا علمبردار اور ان کا جھنڈا بردار ہو گا۔“
اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام احمد نے بھی اسے تخریج کیا ہے، تاہم اس کی سند میں ابوالجہم الواسطی نامی راوی کے تفرد اور ضعف کی وجہ سے محدثین نے اس پر کلام کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔