المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الشعر باب: شاعری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2603
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّعْرِ ، فَقَالَ : " هُوَ كَلَامٌ ، فَحَسَنُهُ حَسَنٌ ، وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ " .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے شعر و شاعری کی شرعی حیثیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شاعری بھی (دیگر اصنافِ سخن کی طرح) ایک کلام ہی ہے، پس جو شاعری عمدہ، تعمیری اور خیر پر مبنی ہو وہ (شرعاً بھی) پسندیدہ ہے، اور جو شاعری فحش، لغو اور شر پر مبنی ہو وہ (شرعاً بھی) ناپسندیدہ اور بری ہے۔“
[تخریج: سنن الدارقطنی: 4337، الأدب المفرد للبخاري: 865؛ علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے]